1-یہ جمعیت ہے جان اپنی
اور جان تو سب کو پیاری ہے
2-اسلامی جمعیت طلبہ۔۔ ❤️❤️
جس کے کارکنوں نے پاکستان کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کے لیے اپنا خون دینے سے بھی دریغ نہیں کیا۔۔
3- بے وفائی کا خوگر میرا دل نہیں
میں نے محفل تو بدلی ہے منزل نہیں
23 دسمبر یومِ تاسیس اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان
4-آسمانوں کی وسعت،
خونِ شہداء کی سرخی،
اور مسجدِ خضراء کا رنگ لئے
عروج کی جانب گامزن
اسلامی جمعیت طلبہ
5- پھول سے خوشبو جدا ہو یہ کبھی ممکن نہیں ہے
کل بھی دھڑکن جمعیت تھی آج بھی یہ دل نشیں ہے
6- جمعیت نے زندگی سنوار دی
جوانیوں کو دین کی مہار دی
7- جذبوں کی صداقت زندہ ہے ایمان کی حرارت زندہ ہے
جب تک ہے سلامت سر میرا سوداے شہادت زندہ ہے
8-طرز بیان بخشا، حسن کلام بخشا …
گمنام بے نوا کو دنیا میں نام بخشا …
اک احترام دے کر، اعلیٰ مقام بخشا …
پختہ شعور دے کر سوز دوام بخشا …
افضال ھے فدائی دلدار جمعیت کا،
اونچا ھے پر بتوں سے کردار جمعیت کا …..
میری جمعیت
9- رز بیان بخشا، حسن کلام بخشا …
گمنام بے نوا کو دنیا میں نام بخشا …
اک احترام دے کر، اعلیٰ مقام بخشا …
پختہ شعور دے کر سوز دوام بخشا …
افضال ھے فدائی دلدار جمعیت کا،
خباب ھے فدائی دلدار جمعیت کا ….
اونچا ھے پر بتوں سے کردار جمعیت کا …..
میری جمعیت ❤
10- آسمانوں کی وسعت،
خونِ شہداء کی سرخی،
اور گنبدِ خضراء کا رنگ لئے
عروج کی جانب گامزن
اسلامی جمعیت طلبہ
11-خدا کی رحمتیں ہوں آپ پر سو بار مودودیؒ
دعائیں دے رہی ہے جمعیت بیدار
12- ! یہی وہ بزم دوستاں ملا سکوں دل جہاں
شہادتوں کی انجمن محبتوں کی کہکشاں۔۔
13- کچھ اہل ستم کچھ اہل ہشم مے خانہ گرانے آئے تھے
دہلیز کو چوم کےچھوڑ دیا دیکھا کہ یہ پتھر بھاری ہے
13- طرز بیان بخشا، حسن کلام بخشا …
گمنام بے نوا کو دنیا میں نام بخشا …
اک احترام دے کر، اعلیٰ مقام بخشا …
پختہ شعور دے کر سوز دوام بخشا …
افضال ھے فدائی دلدار جمعیت کا،
خباب ھے فدائی دلدار جمعیت کا ….
اونچا ھے پر بتوں سے کردار جمعیت کا …..
14-سیّاح دُور دُور سے آتے ہیں دیکھنے
پتھر کے شہر میں وہ اکیلا درخت ہے
15- میری تکمیل میں حصہ ہے تمہارا بھی بہت
میں اگر تم سے نہ مِلتا تو ادُھورا رہتا
16-میں 25 طلبہ کے عزم سے شروع ہونے والی اسلامی جمعیت طلبہ آج پاکستان کی سب سے بڑی طلبہ تنظیم ہے ۔۔ الحمدللہ
17- 1947ء میں بننے والی اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کی سب سے بڑی منظم طلبہ تنظیم ہے. جو اپنے وجود کے قیام سے ہی طلبہ کی رہنمائی کے لیے اور نوجوان طلبہ کو رب کی طرف لانے اور نوجوانوں کو رب سے ملوانے کے لیے درس قرآن اور تربیتی نشستوں کا اہتمام کرتی ہے..اور اس کے ساتھ ساتھ طلبہ کے اندر مثبت سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے بڑے بڑے پروگرامات کا انعقاد کرتی ہے.
17- 23 دسمبر 1947 وہ دن جب حق کا نور باطل کے اندھیرے سے الگ ہوا۔
18- میری جمیعت انتشار سے پاک ایک ہمہ گیر تحریک ہے، ہم میں کوئی نہ الگ ہے نا امتیاز
19- تم سلامت رہو ہزار برس
ہر برس کے ہوں دن پچاس ہزار
20-نہ منہ چھپا کے جئے ہم نہ سر جھکا کے جئے
ستم گروں کی نظر سے نظر ملا کے جئے
21- جب ساز سلاسل بجتے تھے ، ہم اپنے لہو میں سجتے تھے
وہ رِیت ابھی تک باقی ہے ، یہ رسم ابھی تک جاری ہے
کچھ اہلِ ستم ، کچھ اہلِ حشم مے خانہ گرانے آئے تھے
دہلیز کو چوم کے چھوڑ دیا دیکھا کہ یہ پتھر بھاری ہے
جب پرچمِ جاں لیکر نکلے ہم خاک نشیں مقتل مقتل
اُس وقت سے لے کر آج تلک جلاد پہ ہیبت جاری ہے
22- زخموں سے بدن گلزار سہی پر ان کے شکستہ تیر گنو
خود ترکش والے کہہ دیں گے یہ بازی کس نے ہاری ہے
23-: یہ اجتماعیت گزرتے دن کے ساتھ قوی ہوتی جائے گی، کیونکہ غالب تو اللہ کے دین کو ہی آنا ہے، چاہے کسی کے رضامندی ہو یا بیزاری
24- ملک بھر میں طلبہ کو اکٹھا کرنا، اپنی دعوت کے لیئے بلانا، کراچی سے گلگت، یہ سب مشقتیں کیوں؟
یہ اقبال کے شاہین اپنی عاقبت کو دنیا پر ترجیح دیتے ہیں
https://twitter.com/Tanveer642?s=09
https://youtube.com/channel/UCz2ta8JNdqzkqHpr6D0ztjQ