طلاق ناپسندیدہ عمل

while Al-Nasa’y said, “His Hadith transmission is discarded (due to unreliability).” Abu Dawud (may Allah be merciful to him) reported the Hadith with a Sahih (authentic) connected Sanad on the authority of Ma‘ruf ibn Wasil,

The main reason behind this commotion is ignorance. Majority of the times, Muslim men and women themselves are clueless of the Islamic law which governs the community.

this is the common impression people perceive about the Islamic law of divorce. Therefore, this topic has always remained the bone of contention among the Muslims and the non-Muslims alike.

The melodrama of the husband shouting out the words ‘talaq talaq talaq…’ and the wife, already being the victim of all sorts of oppression, now facing yet another horror of divorce:

They unearth the problem, hear out both sides with punctiliousness and fairness and advise, in friendship and love, each person regarding their mistakes and shortcomings.

In order to bring about reconciliation, the team of arbitrators arranges a meeting with the wife and husband.

Husbands and wives are like two tires of a car and they have to move in the same direction if one of them gets damaged they can stop the car so both of them should treat each other with kindness.

“Al-‘Ilal” with the same Sanad of Abu Dawud and Ibn Majah, but he ranked it as Da‘if, due to the presence of ‘Ubaydullah Al-Wassafy. Yahya said, “He is not dependable,”

Abu Hatim and Al-Daraqutny is that the following Hadith is Mursal: ‘The most hateful of lawful things to Allah is divorce.’ ” Ibn Al-Jawzy mentioned the Hadith in:

This team consists of two mediators; one chosen by the wife’s family, and one by the husband’s. They may be of the couple’s family or unrelated. The Quran states۔

The Sanad (chain of narrators) includes Humayd ibn Malik who is a Da‘if (weak) narrator.” Al-Munawy related in: “Fayd Al-Qadir” that Ibn Hajar said, “The preponderant opinion of (Part No. 4; Page No. 439)

Strive to be mature and just. Remember Allah’s words in the Quran: “The parties should either hold together on equitable terms or separate with kindness.” (Surah al-Baqarah, 2:229)

Both spouses should have the fear of ALLAH. They should remember that if they are unfair to their spouse, they will be judged on their behavior by ALLAH.They should try to resolve the problem amongst themselves, then within family members.

The moral obligations of both women and men have been explicated in detail in various books on ethics, but some of these have been indicated in chapter five.

Guidelines are given both for personal behaviour and the legal process. Following these guidelines may be difficult, especially if one or both spouses feel wronged or angry

who narrated that the Prophet (peace be upon him) said, “There is never a thing that Allah has permitted more hateful to Him than divorce.”

Islam has also anticipated the need for a team of arbitrators to resolve the disputes of spouses and preclude divorce.

The needs of both parties are considered. Any children of the marriage are given top priority. Guidelines are given both for personal behaviour and the legal process..

Muslims today are divorcing in larger numbers than before. There are clearly problems within families that have not been addressed; dysfunction, miscommunication, and in a number of cases violence and abuse.

One should not expect perfection on the part of the spouse because nobody’s perfect except ALLAH and His Messenger. Everybody has shortcomings..

Recognize though, that Islam outlines certain steps that need to take place both before, during, and after a divorce. The needs of both parties are considered

Marriage is a great blessing for the survival of humanity and the natural system of life, through which on the one hand the natural need of man is fulfilled and a pure system of procreation and reproduction is established in the world,

In modern times, as personal status (family) laws were codified, they generally remained “within the orbit of Islamic law”, but control over the norms of divorce shifted from traditional jurists to the state.

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے: اَبْغَضُ الْحَلَالِ اِلَى اللَّهِ اَلطَّلَاقُ. حلال چیزوں میں خدا کے نزدیک زیادہ ناپسندیدہ چیز طلاق ہے۔ السنن، ابو داؤد، 2: 370، رقم الحدیث: 2178

خدا غصے میں کئے گئے فیصلے اور شیطان کے شر سے بچائے

ایک بڑے بزرگ نے اس کا ایک طریقہ یہ لکھا ہے کہ: دن بھر اختلاف رہے، رہنے دو؛ لیکن رات کو بستر پر اس اختلاف کو ختم کرلو اور آپس میں یہ طے کرلو کہ ہم لوگ بستر پر کوئی اختلاف باقی نہیں رکھیں گے، پھر جو صبح ہوگی وہ نہایت خوش گوار اور مسرت وشادمانی لیے ہوگی۔.

طلاق کے نقصانات میں سے بڑا نقصان خانگی تباہی ہے. طلاق کی آگ دونوں خاندانوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے، جو آگے جا کر دائمی دشمنی کا سبب بنتی ہے، جس کی وجہ سے ہنستے مسکراتے خاندان جہنم کدہ بن جاتے ہیں

اس طرح طلاق کے واقعات کم سے کم تر ہوں لیکن افسوس کہ آج معاشرہ میں جہالت و نادانی اور دین سے دوری کے سبب بہت سے مرد اس معاملے میں جلد بازی کا مظاہرہ کرتے ہیں

#طلاق_ناپسندیدہ_عملجیسا کہ بغیر عُذرِ شرعی کے فرض نماز گھر میں پڑھنا، غَصْب شُدَہ زمین میں نماز پڑھنا ( اس طرح کرنے والا گناہ گار ہوگا)، اسی طرح جمعہ کے دن اذانِ جمعہ کے بعدخریدوفروخت کرنا (کہ یہ خریدوفروخت ہوجائے گی مگر کرنے والے گناہ گار ہوں گے)۔

شرفُ الدّین حسین بن عبداللہ طِیْبی علیہ رحمۃ اللہ القَوی (سالِ وفات: 743ھ) فرماتے ہیں: اس حدیثِ پاک میں اس بات کا بیا ن ہے کہ طَلاق مَشْروع ہے یعنی دیں گے تو ہوجائے گی مگر اللہ تعالیٰ کے نزدیک مَبْغُوض یعنی ناپسندیدہ ہے.

رسولِ کریم، رءوفٌ رَّحیم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان ہے: اَبْغَضُ الْحَلَالِ اِلَى اللَّهِ تَعَالٰى اَلطَّلَاقُ یعنی حلال چیزوں میں خدا کے نزدیک زیادہ نا پسندیدہ طلاق ہے۔(ابو داؤد،ج2،ص370، حدیث:2178)

معاشرے میں بڑھتی عدم برداشت طلاق اور خلع میں اضافہ کا سبب ہے۔

مادیت پرستی میں اضافے کی وجہ سے خصوصاً خواتین کے مطالبے بھی بہت بڑھ گئے ہیں اور خواتین کے مطالبے، خواہشات، تمنائے اور مقابلے کا یہ رجحان معاشرے کے اندر سرائیت کر تا جارہا ہے۔۔۔۔

حدیث مفہوم کا ہے
“أَيُّمَا امْرَأَةٍ سَأَلَتْ زَوْجَهَا طَلاقًا فِي غَيْرِ مَا بَأْسٍ فَحَرَامٌ عَلَيْهَا رَائِحَةُ الْجَنَّة “
’’جس عورت نے بغیر کسی وجہ کے اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کیا اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے‘‘

پسندیدہ لوگ واعمال: سنن ترمذی میں حضرت ابو سعید خدر ی سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا:قیامت کے دن اللہ کے نزدیک جگہ پانے والے وپسندیدہ لوگوں میں سے ایک عدل کرنے والا حکمران ہے،وسب سے دور جگہ پانے والوں ونا پسندیدہ لوگوں میں سے ظالم حکمران ہے

فَيَتَعَلَّمونَ مِنهُما ما يُفَرِّقونَ بِهِ بَينَ المَرءِ وَزَوجِهِ
﴿١٠٢﴾… سورة البقرة
’’پھر بھی یہ لوگ ان سے وہ چیز سیکھتے تھے جس سے شوہر اور بیوی میں جدائی ڈال دیں‘‘

رسول اکرم ص نے صلہ رحمی کو ایمان کی علامت قرار دیا ہے ارشاد ہے وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَاليَوْمِ الآخِرِ فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ. جو اللہ اور یومِ آخرت (میں اس کے سامنے پیش ہونے) پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ رشتوں کو جوڑے

فَإِن أَطَعنَكُم فَلا تَبغوا عَلَيهِنَّ سَبيلًا ﴿٣٤﴾… سورة النساء ’’اگر وہ تمہاری مطیع ہوجائیں تو خواہ مخواہ ان پر دست درازی کے لیے بہانے نہ کرو‘‘

لاہور بار ایسوسی ایشن کے سیکرٹری سید فرہاد علی شاہ کا کہنا ہے کہ بدلتی ہوئی معاشرتی اقدار نے عائلی زندگی کو متاثر کیا ہے اور پہلے کی نسبت طلاق کو اس قدر معیوب نہیں سمجھا جاتا۔

جن بچوں کے والدین میں طلاق ہو جاتی ہے وہ جذباتی طور پر اتنا ٹوٹ جاتے ہیں کہ نہ تو کبھی زندگی میں کامیاب ہو سکتے ہیں اور نہ ہی دوسروں کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کر سکتے ہیں۔

ابن ابی الدنیا نے روایت کی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا: اللہ کے نزدیک لوگوں میں سے پسند یدہ وہ ہے جولوگوں کو نفع پہنچانے والا ہو، اور بے شک اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ اعمال میں سے یہ ہے کہ تو کسی مسلمان کو خوشی پہنچائے

تربیت پہ صحیح توجہ نہ ہونے کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں طلاق عام ہورہی ہے۔

طلاق عام ہوگئی ہے اس عمل کو روکنا ہوگا

والدین اگر میاں بیوی کے معمولی جھگڑوں کو صلح اور محبت سے نمٹا دیں،تو نوبت طلاق تک نہ پہنچے۔

نکاح ہی نیک و صالح اولاد کے حصول کا ذریعہ ہے جو کسی بھی شخص کی زندگی کا قیمتی سرمایہ ہوتا ہے۔ صحیح تعلیم و تربیت اور اچھا ماحول انھیں میسر آئے تو یہ والدین کے لئے مرنے کے بعد بھی نیک نامی کا ذریعہ اور شرعی نقطۂ نظر سے حصول ثواب اور رفع درجات کا ذریعہ ہوتے ہیں

صحیح احادیث میں نیک اولاد کو صدقہ جاریہ کہا گیا ہے۔ نکاح کی قید اور اس کا تصور اگر ختم ہوجائے تو انسانی معاشرہ ، رحمت و مودت اور شفقت و اُلفت ، صلہ رحمی و غمگساری وغیرہ اخلاقی اقدار سے محروم ہوجائے

اسلام نے معاشرہ کی بنیاد خاندان اور اس کے خوشگوار تعلقات پر رکھی ہے اور خاندان کا دار و مدار رشتۂ نکاح پر ہے۔ یہ رشتہ جس قدر مضبوط ہوگا ، اتنا ہی پاکیزہ خاندان اور صالح معاشرہ وجود میں آئے گا ۔

اس حدیثِ پاک میں اس بات کا بیا ن ہے کہ طَلاق مَشْروع ہے یعنی دیں گے تو ہوجائے گی مگر اللہ تعالیٰ کے نزدیک مَبْغُوض یعنی ناپسندیدہ ہے جیسا کہ بغیر عُذرِ شرعی کے فرض نماز گھر میں پڑھنا، غَصْب شُدَہ زمین میں نماز پڑھنا

ان کے افراد کے درمیان باہم ربط و تعلق پیدا ہوتا ہے ، اس سے اپنا گھر بستا اور گھریلو زندگی میں سکون و اطمینان کی دولت نصیب ہوتی ہے

نکاح اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے

نکاح انسانی معاشرہ کے وجود و بقا کا ایک اہم ستون ہے ۔ اس سے نہ صرف مرد و عورت کے درمیان محبت و مودت پیدا ہوتی ہے بلکہ اس سے دو خاندان ایک دوسرے سے قریب ہوتے ہیں

میں نے معاشرے میں بہت سے مجازی خداؤں کو خدائ کا دعوہ کرتے اور بلاوجہ کسی کی زندگی برباد کرتے دیکھا ھے.

حدیث:تم عورت کےساتھ عمر بھر (ایک زمانہ تک) احسان اور اچھا برتاؤ کرتےرہو،پھر تم سےوہ کوئی چیز دیکھےیعنی اتفاقاکوئی معمولی بات یا اس کی مرضی کےخلاف کوئی چیز تمہاری طرف سےپیش آجائےتو فورا کہےگی:میں نے کبھی تم سےکوئی بھلائی دیکھی ہی نہیں(صحیح بخاری)

#طلاق_ناپسندیدہ_عمل طلاق کے ناپسندیدہ ہونے کے باعث ہی شریعت نے طلاق کا اختیار عورت کو نہیں دیا کیوںکہ یہ حقیقت کون نہیں جانتا کہ عورت عام طورپر جذباتی ہوتی ہے ، معمولی باتوں سے جلد متاثر اور مشتعل ہونے کا مزاج رکھتی ہے۔

حدیث میں ارشاد گرامی ہے: ’’ بے شک اﷲ کے نزدیک حلال چیزوں میں سب سے زیادہ مبغوض ترین چیز طلاق ہے۔ ‘‘( ابوداؤد )

اگر عورت کو طلاق کا اختیار دیا جاتا تو اس بات کا قوی اندیشہ اور امکان ہوتا کہ وہ معمولی اختلاف و نا اتفاقی کی صورت میں جذباتیت سے مغلوب ہوکر ، انجام کی پرواہ کئے بغیر فوری طلاق کا قدم اُٹھائے اور اس حق کو اختیار کرکے رشتۂ نکاح کو توڑ دے۔

قرآن نے ان بیویوں کے بارے میں جو نافرمانی کی مرتکب ہوں فرمایا: ﴿فَإِن أَطَعنَكُم فَلا تَبغوا عَلَيهِنَّ سَبيلًا.. ﴿٣٤﴾… سورة النساء ’’اگر وہ تمہاری مطیع ہوجائیں تو خواہ مخواہ ان پر دست درازی کے لیے بہانے نہ کرو‘‘

حسن معاشرت کے ساتھ خوشگوار نباہ اور تعلقات ممکن نہیں رہتے بلکہ دشوار ترین ہوجاتے ہیں ،

علیحدگی ناگزیر ضرورت بن جاتی ہے۔ ایسے ہی ناگزیر حالات میں علیحدگی کے لئے شریعت نے طلاق کو مشروع کیا اور اسے جائز رکھا۔

نکاح انسانی معاشرہ کے وجود و بقا کا ایک اہم ستون ہے اس سے نہ صرف مرد و عورت کے درمیان محبت و مودت پیدا ہوتی ہے بلکہ اس سے دو خاندان ایک دوسرے سے قریب ہوتے ہیں ان کے افراد کے درمیان باہم ربط و تعلق پیدا ہوتا ہے اس سے اپنا گھر بستا

ایک روایت حضرت ثوبانؓ اس طرح نقل کرتے ہیں کہ رسول اﷲ نے ارشاد فرمایا: ’’جو عورت بھی بلا وجہ اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرے اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے۔ ‘‘( ترمذی )۔

میاں بیوی کے درمیان تفریق کی کوششیں شیطانی کام ہیں اور شیطان اس سے خوش ہوتا ہے ۔

یہاں تک کہ اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی ڈال دی ، ابلیس یہ سن کر اس کو اپنے قریب کرلیتا اور سینہ سے چمٹا لیتا ہے اور کہتا ہے ’’ تم نے کیا ہی اچھا کام کیا۔ ‘‘

میرے تجربے کے مطابق پاکستان میں جو بھی این جی اوز عورتوں کو سلائی کڑھائی وغیرہ کا کام سکھاتی ہیں ان میں کام کرنے والی خواتین میں سے اکثر کو طلاق کا سامنا کرنا پڑتا ہے ایسا لگتا ہے کہ اس کے پیچھے بھی کوئی مافیا کام کررہا ہے جس کا مقصد فحاشی ہے

خدارہ بیٹیوں کو میڈیا اور آج کل کے فتنہ ساز ڈراموں کی پہنچ سے دور رکھیں شادی سے پہلے ہی ڈراموں کے ذریعے یہ بات کوٹ کوٹ کر ذہنوں میں ڈال دی جاتی کے سسرال والے لڑکے کی تنخواہ کھا رہے ساس بہو کو کسی صورت بیٹی نہیں مانتی نند تو پیدائشی دشمن ہے

ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ جس طرح تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی ٹھیک اسی طرح کامیاب زندگی کسی ایک پارٹنر کی کوششوں سے ممکن نہیں ، میاں بیوی کو اپنی جوڑی بچانے کیلئے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے

طلاق کے ناپسندیدہ ہونے کے باعث ہی شریعت نے طلاق کا اختیار عورت کو نہیں دیا کیوںکہ یہ حقیقت کون نہیں جانتا کہ عورت عام طورپر جذباتی ہوتی ہے ، معمولی باتوں سے جلد متاثر اور مشتعل ہونے کا مزاج رکھتی ہے۔

طلاق کے خلاف بولنا بھی جہاد سمجھتا ہوں میں ہمارے معاشرے کو اس برائی سے بچانا ہے یورپ کے فیملی سسٹم کی بربادی اس سے ہوئی

سورہ البقرہ میں جادو کے بارے میں یہ بات بیان ہوئی کہ شیاطین لوگوں کو اس کی تعلیم و تلقین کرتے اور اس کے ذریعہ میاں بیوی کے درمیان جدائی کروادیتے ہیں۔

میاں بیوی کے درمیان تفریق شیطانی کام ہے۔

ایک حدیث میں رسول اﷲ کا ارشاد گرامی اس طرح منقول ہے: ’’ اس شخص کا ہم سے کوئی تعلق نہیں جو عورت کو اس کے شوہر کے خلاف یا غلام کو اس کے آقا کے خلاف ورغلائے ۔ ‘‘( ابوداؤد )۔

فَإِن أَطَعنَكُم فَلا تَبغوا عَلَيهِنَّ سَبيلًا …﴿٣٤﴾… سورة النساء ’’اگر وہ تمہاری مطیع ہوجائیں تو خواہ مخواہ ان پر دست درازی کے لیے بہانے نہ کرو‘‘

پاکستان میں طلاق بڑھنے کی وجہ کیا ہے فحاشی یا دینی تعلیم کی کمی یا پھر ہمارے ڈرامے

نکاح تحفظ عزت کا ضامن ہے۔ پھر طلاق سے عزت ختم ہو جاتی ہے

یہ جائز و مباح ہونے کے باوجود ، حد درجہ ناپسندیدہ ہے ، اس لئے کہ نکاح کا مقصد صرف طبعی اور فطری خواہشات کی تکمیل ہی نہیں کہ جب چاہا نکاح کیا اور جب چاہا اس بندھن کو توڑ دیا۔

اس حدیثِ پاک کی شرح میں فرماتے ہیں: اَصَحْ یہ ہے کہ حاجت کے علاوہ طَلاق دینا ممنوع ہے، لفظِ مُباح اس چیز پربھی بولا جاتا ہے جو بعض اوقات میں مباح ہو، یعنی طلاق صرف اس وقت دینا مباح ہے جب اس کی حاجت و ضرورت مُتَحَقَّق ہو۔

اگر یہی چیز مقصود ہوتو نکاح کا مخصوص طریقہ اختیار کرنے اور اس کی پابندیوں کو قبول کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی

حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر رسول اﷲ تک کوئی شریعت ایسی نہیں گزری جو نکاح کی مشروعیت سے خالی رہی ہو۔ آسمانی شریعت سے ہٹ کر دیگر اقوام و مذاہب عالم میں بھی ہر مہذب قوم میں نکاح کا تصور اور اس کا کوئی نہ کوئی طریقہ پایا جاتا ہے۔

(کہ ان دونوں صورتوں میں نماز ہوجائے گی مگر اس طرح کرنے والا گناہ گار ہوگا)، اسی طرح جمعہ کے دن اذانِ جمعہ کے بعدخریدوفروخت کرنا (کہ یہ خریدوفروخت ہوجائے گی مگر کرنے والے گناہ گار ہوں گے)۔

Leave a comment